| Moral Story in English |
MORAL STORY OF KINDNESS
Once
upon a time, in a small village, there lived a man named Jack. Jack was a
wealthy and powerful man who always thought about himself and never cared about
others. He would often exploit the poor and take advantage of them. One day,
Jack met an old man on the street who asked him for help. Jack ignored him and
walked away. The old man then cursed Jack and said, "You will face the
consequences of your actions one day."
Days went by, and Jack started to face
difficulties in his life. He lost all his wealth, his business failed, and he
became poor. He realized that he had been arrogant and selfish and decided to
change his ways. He started helping others and became kind and generous.
One day, Jack came across the old man who had
cursed him. Jack fell at his feet and begged for forgiveness. The old man
forgave him and said, "You have learned your lesson. Always remember that
kindness and empathy are more important than wealth and power."
From that day, Jack became a changed man. He
devoted his life to helping others and became an inspiration to many. He
realized that true happiness lies in making others happy and that wealth and
power are temporary.
The moral of the story is that kindness and
empathy are virtues that everyone should possess. No matter how much wealth and
power we have, it will all be meaningless if we do not use it to help others.
So, let us always be kind and empathetic towards others and make this world a
better place.
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک
چھوٹے سے گاؤں میں جیک نام کا ایک آدمی رہتا تھا۔ جیک ایک امیر اور طاقتور آدمی
تھا جو ہمیشہ اپنے بارے میں سوچتا تھا اور کبھی دوسروں کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔ وہ
اکثر غریبوں کا استحصال کرتا اور ان سے فائدہ اٹھاتا۔ ایک دن، جیک سڑک پر ایک
بوڑھے آدمی سے ملا جس نے اس سے مدد مانگی۔ جیک نے اسے نظر انداز کیا اور وہاں سے
چلا گیا۔ اس کے بعد بوڑھے نے جیک کو گالی دی اور کہا، "تمہیں ایک دن اپنے
اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔"
دن گزرتے گئے اور جیک اپنی
زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے لگا۔ اس نے اپنی تمام دولت کھو دی، اس کا کاروبار
ناکام ہو گیا، اور وہ غریب ہو گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ مغرور اور خود غرض تھا
اور اس نے اپنے طریقے بدلنے کا فیصلہ کیا۔ وہ دوسروں کی مدد کرنے لگا اور مہربان
اور فیاض بن گیا۔
ایک دن جیک اس بوڑھے آدمی
سے ملا جس نے اسے بددعا دی تھی۔ جیک اس کے قدموں میں گر گیا اور معافی مانگنے لگا۔
بوڑھے نے اسے معاف کر دیا اور کہا کہ تم نے اپنا سبق سیکھ لیا ہے، ہمیشہ یاد رکھو
کہ رحم اور ہمدردی دولت اور طاقت سے زیادہ اہم ہے۔
اس دن سے جیک ایک بدلا ہوا
آدمی بن گیا۔ اس نے اپنی زندگی دوسروں کی مدد کے لیے وقف کر دی اور بہت سے لوگوں
کے لیے تحریک بن گئے۔ اس نے محسوس کیا کہ حقیقی خوشی دوسروں کو خوش کرنے میں ہے
اور دولت اور طاقت عارضی ہیں۔
کہانی کا اخلاق یہ ہے کہ
رحمدلی اور ہمدردی وہ خوبیاں ہیں جو ہر ایک کے پاس ہونی چاہئیں۔ اس سے کوئی فرق
نہیں پڑتا کہ ہمارے پاس کتنی ہی دولت اور طاقت ہے، اگر ہم اسے دوسروں کی مدد کے
لیے استعمال نہیں کریں گے تو یہ سب بے معنی ہو جائے گا۔ لہٰذا، آئیے ہم ہمیشہ
دوسروں کے ساتھ ہمدرد اور ہمدرد رہیں اور اس دنیا کو ایک بہتر جگہ بنائیں۔
No comments:
Post a Comment